ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہب،ذات اور عقیدے کے نام پر سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ غیر واضح: جماعت اسلامی ہند

مذہب،ذات اور عقیدے کے نام پر سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ غیر واضح: جماعت اسلامی ہند

Sat, 07 Jan 2017 18:25:49    S.O. News Service

نئی دہلی، 7جنوری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) مذہب،ذات اور عقیدے کے نام پر کی جانے والی سیاست پر قدغن لگانے کے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر امیر جماعت اسلامی ہندمولانا سید جلال الدین عمری نے آج یہاں ماہانہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے دوران خطاب تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پوری طرح واضح نہیں ہے۔انہوں نے اپنی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نازک مسئلہ ہے اور اس فیصلے کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کر دیں گی اور اس فیصلے کی بنیاد پر معاندانہ سیاست کا دور شروع ہوجائے گا جس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔امیر جماعت نے کہا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ برسراقتدار پارٹی کو اس فیصلے سے تقویت ملے گی اور یہ فیصلہ 1995میں جسٹس جے ایس ورما کے فیصلے کے برخلاف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ”ہندتوا کوئی مذہب نہیں بلکہ طرز زندگی ہے“۔قوی امکان ہے کہ سیاسی پارٹیاں ہندتوا کے نام پر سیاست کرنے لگیں اور اس کی صفائی میں یہ دلیل دیں کہ وہ مذہب کی بات نہیں بلکہ طرز زندگی کی بات کر رہی ہیں اور عوام کو اس سے دھوکے میں ڈا ل کر اپنا سیاسی فائدہ اٹھائیں۔امیر جماعت مولانا عمری نے ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں اس کی صراحت نہیں ہے کہ کسی خاص مذہبی گروپ کی جائز شکایات کیسے دور کی جائیں گی۔انتخابات کے وقت دبے کچلے طبقات کی بہتری کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جائیں گی اور ان کے لئے سیاسی پارٹیاں کیسے آواز بلند کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد تودرست نظر آرہا ہے اور عدلیہ کی یہ کوشش ہے کہ معاشرے کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم ہونے سے روکا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہند ان خدشات کو دور کرنے کی عدلیہ سے امید کرتی ہے کہ وہ جمہوریت کی روح کو برقرار رکھنے کے لئے اس فیصلے کے نفاذ کی پوری نگرانی کرے گی اور آئندہ ہونے والے انتخابات ایشوز ونظریات پر مبنی ہوں گے۔جماعت کا احساس ہے کہ مذہب میں شامل اخلاقی اقدارکوانتخابات کے وقت بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اینیمی پراپرٹی سے متعلق ترمیمی بل کو آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کئے جانے پر جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے اسے جمہوری روایات کے خلاف بتاتے ہوئے کہا کہ غیرمعمولی حالات میں ہی آرڈیننس کا سہارا لیا جانا چاہئے اور حکومت نے اس میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے شبہات پیدا ہونا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال میں پانچویں مرتبہ اس آرڈیننس کو لانے پر صدر جمہوریہ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیاتھا۔
     سکریٹری جنرل نے صحافیوں کوبتایا کہ راجیہ سبھا میں متعلقہ بل کی مخالفت کے بعد سلیکٹ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے متعدد اراکین نے اسے ظالمانہ قانون قراردیا تھا۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ اقلیتوں کو ہراساں کرنے کا ایک اور ہتھکنڈہ ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

 مسٹر انجینئر نے جماعت کی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس آرڈیننس سے املاک و وراثت کا قانون بھی متاثر ہوگا جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں شامل ہے۔یہ پرسنل لامیں بھی ایک طرح سے مداخلت ہے جو ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا بھی متاثر ہوگی جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔سکریٹری جنرل نے اپنی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ترمیمات کا نشانہ خاص طور پر مسلمان ہوں گے اور مسلمانوں کی جائیداد کو اینیمی پراپرٹی قرار دے کر ان کے خلاف نفرت کا ماحول بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے جس کے ملک اور سماج پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرح کی ترمیمات پرپارلیمنٹ میں بحث کرکے ایسا قانون بنائے جس میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔پریس کانفرنس سے نائب امیر جماعت نصرت علی و میڈیا انچارج ارشد شیخ نے بھی خطاب کیا۔


Share: